حالات کے تناظر میں
Poet: Kaiser Mukhtar By: Kaiser Mukhtar, Hong Kongحالات کے تناظر میں
اک ناز پری کبھی آئے گی
میری الجھن کو ُسلجھائے گی
وہ چاہے گی میرے جیون کو
کبھی دُور کرے میری تڑپن کو
کبھی تیز کرے میری دھڑکن کو
کبھی دل سینے سے باہر ہو
کبھی سینے میں دل کو سجائے گی
اک ناز پری کبھی آئے گی
کبھی چاہت پر مجبُور کرے
وہ مُجھ کو کبھی مخمور کرے
پھر نشے کو مُجھ سے دُور کرے
کبھی سُلجھن کو ا ُلجھائے گی
کبھی اُلجھن کو سُلجھائے گی
اک ناز پری کبھی آئے گی
کوئی زخموُں پر مرہم رکھ دے
میرے ہونٹوں پہ تبسم رکھ دے
کوئی دل سے باہر غم رکھ د ے
چُپکے سے کبھی آکر قیصر
میری دُلھن وہ بن جائے گی
اک ناز پری کبھی آئے گی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







