حالات میں تناؤ ہے
Poet: Muhammad Imran Khan - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarحالات میں تناؤ ہے
اُتار و چڑھاؤ ہے
سمجھ نہیں پڑھتی
پڑھیں کس اوڑھ قدم
ثابت قدم بھی ہیں
خدشۂ لرزش بھی ہے
بھنور میں اپنی ناؤ ہے
اُتار و چڑھاؤ ہے
اُٹھتے ۔ تو اُٹھ کر حدوں کو چُھوتے
گرتے ۔ تو پستیوں میں جاگرتے
گردشِ حالات ہیں
حالات کا کھچاؤ ہے
اُتار و چڑھاؤ ہے
محبتوں کے دور میں
محبتوں کے شور میں
محبتوں پہ پڑھ رہی
حالات کی سرد برف اب
جو سرد کر رہی ہے اب
جذبۂ دل جذبات کو
صحرا کی گرم ریت سے
جلتے میرے قدم ہیں اب
صحرا میں اب پڑاؤ ہے
اُتار و چڑھاؤ ہے۔
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






