جینے لگا ہوں میں تیری بے رخی کے ساتھ
Poet: Shakeel Ahmed By: shakeel ahmed, karachiجینے لگا ہوں میں تیری بے رخی کے ساتھ
جیسے تعلق ہو کسی اجنبی کا اجنبی کے ساتھ
وہ مطمئن ہے کہ میں لگتا ہوں بہت خوش
دھوکہ پھر سے دے دیا اسکو ہنسی کے ساتھ
جب تک میں سمجھ پاتا محبت ہے یا کہ کھیل
وہ کھیل گیا مجھ سے بڑی دل لگی کے ساتھ
آشوبِ چشم پھیلا ہے کیا سارے شہرمیں
جو بھی ملا وہ ملا آنکھوں میں نمی کے ساتھ
بازارِ عشق کی رسم بھی کیاخوب ہے شکیلؔ
اک بار بِک گیا وہ نہ بِکا پھر کسی کے ساتھ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






