جیسے پت جھڑ میں شجر سایہ نہیں کرتے
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghahamجیسےپت جھڑ میں شجر سایہ نہیں کرتے
ایسے بٰیتے ہوئے لمحے لوٹ آیانہیں کرتے
غم کی دھوپ میں تان لیتےہیں خوشی کی چادر
ہم اہل درد غم سےکبھی گبھرایا نہیں کرتے
جس کا دل ہمارےدل سے ایک بار مل جائے
ایسا پیار بھرا دل ہم کبھی لوٹایا نہیں کرتے
راستےکا ہر پتھر ہم توڑ کےرکھ دیتےہیں
ایسی باتوں کےلیے ہم رک جایانہں کرتے
مقدر کےلکھےپہ سرتسلیم خم کرتےہیں
اپنے ہاتھوں کی لکیروں کومٹایانہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






