جھوٹے کی نشانی کو بس اتنا ہی کافی ہے
Poet: By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, Houston TX USAبل بوتے پہ دولت کے پہچان اٹھا لائے
شاعر نما شاعر بھی دیوان اٹھا لائے
جھوٹے کی نشانی کو بس اتنا ہی کافی ہے
ہر بات پہ وہ جاکر قرآن اٹھا لائے
اے "بحر" مقابل میں اک چھوٹی سی کشتی کے
اوقات دکھادی نا ! ، طوفان اٹھا لائے
زائر بھی مزاروں کے دیکھا ہے دھماکوں میں
مرتے ہوئے لوگوں کا سامان اٹھا لائے
کفار سے بھی بدتر جس جا ہو مسلمانی
اِس جا سےتو برکت بھی رحمان اٹھا لائے
قرآن کو سینوں میں کب ہم نے اتارا ہے
رکھنے کو مگر خوشبو جُزدان اٹھالائے
اے میرے وطن مجھ پر احسان کرم تیرا
ہم تیرے توسط سے پہچان اٹھا لائے
سب "ناموں" کے دیوانے تم شعر کے رسیا ہو
کیا سوچ کے تم مجھ سا انجان اٹھا لائے
اصرار پہ جب انکے دل پیش کیا " بولے"
گھر اتنا کہاں سے تم سُنسان اٹھا لائے؟
انداز سخنور سا ، بس نام کا مفتی تھا
سو اس کو بنا کر ہم مہمان اٹھا لائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






