جب سے تیرا نہ ہو سکا ہوں میں
Poet: حمزہ راؤ By: محمد حمزہ اسلم, Okaraجب سے تیرا نہ ہو سکا ہوں میں
تب سے خود کا بھی کب رہا ہوں میں
تجھ کو پہچانتا میں کیوں کر آج
خود سے انجان ہو گیا ہوں میں
خود بھی لوٹا نہیں میں پاس اپنے
اسے بھی پھر نہیں ملا ہوں میں
شاعری شوق کب بھلا میرا
جو کہ پایا نہ وہ جتاتا ہوں میں
سبھی پاگل سمجھتے ہیں مجھ کو
سب کو پاگل بنا رہا ہوں میں
اب کتابوں سے دوستی ہے مری
اب کتابوں سے روٹھتا ہوں میں
اُسے کہنا کہ مت بجھائے مجھے
اُسے کہنا کہ اک دیا ہوں میں
تیرے دل میں بھلے رہا نہ رہا
تیری آنکھوں میں رہ گیا ہوں میں
وہ منا لے گا میری ہار کا جشن
اُسے بولو کہ گر چکا ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






