جب بھی چاہو غیر کو اپنا بنا لیتے ہیں آپ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجب بھی چاہو غیر کو اپنا بنا لیتے ہیں آپ
میرا چہرہ دیکھ کر کیوں سر جھکا لیتے ہیں آپ
میرے ہونٹوں پہ محبت کی کلی کھلتی ہے جب
گلشنِ ہستی میں آ کر مسکرا لیتے ہیں آپ
جانبِ مسجد جو بڑھتے ہیں قدم وقتِ سحر
ہر قدم پہ ہی فرشتوں کی دعا لیتے ہیں آپ
ہر طرف رنج و الم ہیں ،ہر قدم پہ درد و غم
زندگی کی سیج کو کیسے سجا لیتے ہیں آپ
دستِ شفقت ہے تو بدلے میں یہ دیکھو روز و شب
ہم غریبوں سے محبت کی دعا لیتے ہیں آپ
شدّتِ غم سے ہے جب پگھلا ہوا میرا وجود
پھر بھی میری سانس سے کیسے ہوا لیتے ہیں آپ
ایک ہی کشتی میں بیؔٹھے ہیں مگر وشمہ یہ کیا
آنکھ ملتی ہے تو چشمہ کیوں لگا لیتے ہیں آپ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






