جانے کب شہرِ غریباں میں اُجالا ہو گا
Poet: adil baggi By: Adeel Abbas ADIL BAGGI, jauharabadجانے کب شہرِ غریباں میں اُجالا ہو گا
جانے کب شہرِ غریباں میں اُجالا ہو گا
میرے گلشن کو بھی خاروں سے ازالہ ہو گا
دکھ سبھی دور اور ہر طرف مسکان عیاں
چار سو چار سمت خوشیوں کا ہالہ ہو گا
زرِبلاد سے نہ ہو گی پھر شکمِ سیری
گرد ہم وطنوں کے حدود کا جالا ہو گا
نہ کسی حِزب نے پھر شہر کی گلیوں پہ
تلفی ءِ حق کا جلوس نکالا ہو گا
وطن نہ سوچا میں نے تجھ کو توڑتے لمحے
تجھے قائد نے بڑے کرب سے ڈھالا ہو گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






