تمہاری یاد کا موسم
Poet: Faiza Umair By: Faiza Umair, Lahoreسنو
تمہاری یاد کا موسم
بہت اُداس کرتا ھے
کبھی جو سوچو تم
ماضی کے جھروکے میں
تو ہر حسیں پل میں مجھے تم ساتھ پاؤ گے
برستی بارش کی مانند
میری چاہت میں بھیگ جاؤگے
سنو
تم لوٹ آؤ نا
کہ تمہاری یاد کا موسم
تمہارے بن ادھورا ھے
کبھی جو تنہا ھو
یادوں کے میلے میں
تو مجھے تم پاس پاؤ گے
کسی محسن کی مانند
نم آنکھیں لیے
میری آغوش میں چھُپنا تم چاھو گے
سنو
نہ تم یاد آؤ اب
مجھے تم چھوڑ جاؤ اب
تیری یادیں اب ڈستی ہیں
بہت بے کل کرتی ہیں
میں خوش ھوں اپنے حال میں
تیرے بن اپنے زوال میں
سنو
یہ دل پھر بھی کہتا ھے
تم اب لوٹ آؤ نا
نہ مجھ کو ستاؤ نا
کہ
تمہاری یاد کا موسم
بہت اُداس کرتا ھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






