تمہاری چاہت میں کچھ کلام ہوجائے
Poet: سیف الرحمن برقٓ By: saifurrahman, Chiniotاس سے پہلے کہ یہ دن شام ہوجائے
تمہاری چاہت میں کچھ کلام ہوجائے
اس سےپہلے کہ تشنگی حد سے بڑھے
تمہارے ہونٹوں سے نوش جام ہوجائے
اس سےپہلےکہ اٹھے آزادی کی صدا
تمہاری زلفوں کا اسیر، غلام ہوجائے
اس سےپہلے کہ لگےکسی حاسدکی نظر
تمہاری آنکھوں کا صدقہ مدام ہو جائے
اس سےپہلے کہ بےقابوہو تمنائے وصال
میرا گھرتیری خوشیوں کامقام ہوجائے
اس سےپہلے کہ قوتیں دےدیں جواب
اک چھوٹی بِسمہ اور اک بسام ہوجائے
اس سےپہلےکہ محبت ہوغیر سےبدنام
وفا کے قصوں میں ہمارا نام ہوجائے
اس سےپہلےکہ مرادل دھڑکناچھوڑے
تمہاری بانہوں میں برق تمام ہوجائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






