تمہاری آنکھیں خنجر سے کم نہیں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamیہ جو شکوےشکایتیں بار بار کرتے ہو
یوں ہمیں کیوں شرمسارکرتے ہو
ہم سےاتنی بےرخی بھی اچھی نہیں
ایسےکیوں ہمارا جینا دشوار کرتے ہو
تمہارےجی میں جوآئے کہہ دیتے ہو
ہماری باری آئےتوراہ فراراختیارکرتےہو
تمہارےپاس تو باتوں کا خزانہ ہے
مگر ہر ایک بات بیکار کرتے ہو
تمہاری آنکھیں خنجرسےکم نہیں
کاجل ڈال کرکیوں انہیں تلوارکرتےہو
نہ ملتے ہو نہ صاف انکارکرتے ہو
اصغر سے کیوں ایساسرکارکرتےہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







