تمہارا چہرہ
Poet: نامعلوم By: Saqib Raheem., Jhelum.تمہارا چہرہ
تمہاری آنکھیں
تمہارے ہونٹوں کے حاشیے پہ
لکھے ہوئے یہ وفا کے نغمے
تمہارے شانوں پہ بکھری زلفیں
تمہاری قوسِ قزح سی رنگت
یہ جسم جیسے کہ
خوشبوؤں کو کسی نے پیکر عطا کیا ہے
یہ چال جیسے کہ
بے نیازی کو چلنا کوئی سکھا گیا ہے
یہ رنگ سارے
روش روش پہ کھلے ہوئے
یہ گلاب سارے
حسنِ فطرت کا سارا جادو
یہ خوشبوؤں کا دیار سارا
یہ موسموں کا خمار سارا
تمہارے پیکر میں گھل گیا ہے
تمہارے ہونٹوں کی مسکراہٹ،
تمہاری آنکھیں،
تمہارا چہرہ،
یہ بےتکلف سا شوخ لہجہ
مرے تخیل کو چپکے چپکے
کوئی کہانی سنا رہا ہے
حسین سپنے سجا رہا ہے
میں دم بخود ہوں
میں سوچتا ہوں
یہ تم نہیں ہو تو کون ہے جو
گریز پا بھی ہے ساتھ بھی ہے
تمہیں خبر ہو تو
تم بتاؤ !
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






