تمہارا نام ہی کافی ہے فسانے کے لئے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillحسن کو حسن کا شاہکار دکھانے کیلئے
چلے ہو چاند کی کرنوں کو ستانے کیئے
ہاتھ میں آئے تو لفظوں کے سوا کچھ نہ ملا
بہت بیتاب تھا میں خواب چرانے کیلئے
اس میں کیا زخم کی تفصیل کو بیاں کرنا
تمہارا نام ہی کافی ہے فسانے کیلئے
میں کیسے مان لوں اسکو فشار خوں کا سبب
کہ میرا دل ہے فقط اشک چھپانے کیلئے
رات کی خوش گمانیوں سے گزرتا ہے خیال
ستارے اترے تیرا روپ سجانے کیلئے
میرے احساس کی سرگوشیاں ہی کافی ہیں
تیری آنکھوں میں نئے دیپ جلانے کیلئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






