تمھاری یاد میں اب نیند بھی آتی نہیں مجھ کو ۔۔۔دوگانا
Poet: Dr.Zahid sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanلڑکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمھاری یاد میں اب نیند بھی آتی نہیں مجھ کو
عجب عالم ہے دل کا کوئی شے بھاتی نہیں مجھ کو
اداسی چھائی ہے جینا نہیں میرے لیے آساں
بچھڑ کے تم سے میرے دل کی دنیا ہے بہت ویراں
میں شب بھر گھومتا رہتا ہوں سڑکوں پہ یونہی تنہا
خوشی کے گیت روٹھے بجھ گئے ہیں میرے سب ارماں
سریلی بانسری بھی آج بہلاتی نہیں مجھ کو
عجب عالم ہے دل کا کوئی شے بھاتی نہیں مجھ کو
لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمھاری یاد میں اب نیند بھی آتی نہیں مجھ کو
عجب عالم ہے دل کوئی شے بھاتی نہیں مجھ کو
تصور میں مرے آتے ہو آ کے دل جلاتے ہو
بتا دو دور رہ کے کیوں مجھے تم آزماتے ہو
کھلے ہیں پھول ہر جانب ،بہاریں گیت گاتی ہیں
جدا رہ کے حسیں موسم میں کیوں مجھ کو ستاتے ہو
منا لے جو تمھیں ایسی ادا آتی نہیں مجھ کو
عجب عالم ہے دل کا کوئی شے بھاتی نہیں مجھ کو
تمھاری یاد میں اب نیند بھی آتی نہیں مجھ کو
عجب عالم ہے دل کا کوئی شے بھاتی نہیں مجھ کو
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






