تمنائے دِل جیون میں وہ مقام ائے
Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahoreتمنائے دِل جیون میں وہ مقام آئے
پھولوں سے کبھی وقتِ ہم کلام آئے
پُر نور چاند بنے کبھی میرا بھی ہمسفر
کسی روز ستاروں کا میرے گھر قیام آئے
ہو بے چینی سی پورے عالم پہ چھائی
میری محبت سے مِلنے ہر شام آئے
ہو جائے اپنی ذات سے ہی ملاقات
دیوانگی میں کوئی تو شے کام آئے
جو ہو وہ میری یادوں مضطرب
پریم باتوں سے بھرپور حسیں سلام آئے
خوفِ خُدا ہو مگر خوفِ دُنیا نہ ہو
دیر آئے دُرست آئے‘ آئے تو سرِ عام آئے
زندگی گزرے تو محبت کے نام پہ گزرے
موت پہ آئے تو محبت کا نام آئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






