تم نے جب زلف پریشاں کو سنوارا ہوگا
Poet: معیز By: معیز, Abbottabadتم نے جب زلف پریشاں کو سنوارا ہوگا
صدقۂ حسن گھٹاؤں نے اتارا ہوگا
آپ کی چشم کرم کا جو اشارہ ہوگا
اوج پر میرے مقدر کا ستارہ ہوگا
سنگ دل تیرے بھی آنسو نکل آئے ہوں گے
ڈوبنے والے نے جب تجھ کو پکارا ہوگا
میں نے الزام خوشی سے لیے سب اپنے سر
آپ بدنام ہوں یہ کس کو گوارہ ہوگا
کچھ تو قسمت کی ہے سازش مری بربادی میں
اور کچھ ان کی بھی نظروں کا اشارہ ہوگا
کیا غرض اس کو زمانے کی خوشی سے دانشؔ
یار کا غم ہی جسے جان سے پیارا ہوگا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






