تم میری کون ھو؟
Poet: ڈاکٹر قمر صدیقی By: ڈاکٹر قمر صدیقی, KHARIANتم میری کون ھو
نہ پوچھا کرو
تیرا خیال میرا اوڑھنا بچھونا ھے
تمھاری یاد میرا کھیل ھے کھلونا ھے
تمھارا نام میری زندگی کا حاصل ھے
تمھاری ذات میری تشنگی کا ساحل ھے
تم میری کون ھو
نہ پوچھا کرو
مثال گل ھوں اگر میں تو ، تو میری خوشبو
مثال گل ھے اگر تو ، تو میں تیری خوشبو
جو چشم تر ھوں میں جاناں تو، تو میرا آنسو
جدھر بھی آنکھ اٹھاؤں ادھر ھے تو ھی تو
تم میری کون ھو
نہ پوچھا کرو
تو میرا ذھن، میری سوچ ھے، سخن ھے میرا
تو میری ذات، پس ذات، پیرھن ھے میرا
تو میری روح ، میرا قلب ھے ، بدن ھے میرا
میرے حروف کا مقصود ھے ، تو فن ھے میرا
تم میری کون ھو
نہ پوچھا کرو
بات بے بات یوں
نہ روٹھا کرو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






