تقدیر آزمانے کی زہمت نہ کیجیے
Poet: Tasdiq Ahmed Khan By: Tasdiq Ahmed Khan , Ajmerتقدیر آزمانے کی زہمت نہ کیجیے
اس بے وفا کو پانے کی حسرت نہ کیجیے
بیٹھا ہےچوٹ کھا کھاحسینوں سےدلپہ وہ
جو کہ رہا تھا ہم سے محبت نہ کیجیے
جلوے کی حسین کے آیا ہوں دیکھ کر
محفل میں آج ذکر َ قیامت نہ کیجیے
آواز تو اٹھا ءیے حق کے لیے مگر
اس کے لئے وطن میں بغاوت نہ کیجیے
میں ہوں سخن طراز قلم بیچتا نہیں
دولت کی مجھ پہ آپ عنایت نہ کیجیے
مفلس کے گھر ہی لٹتے ہیں اکثر فساد میں
اخبار پڑھ کے آج کا حیرت نہ کیجیے
رسمَ وفا نبھاءیے تصدیق آپ بھی
کھا کر فریب َحسن شکایت نہ کیجیے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






