ترے ستم کے لئے جس کا انتخاب نہیں
Poet: Hazrat Allama Pir Syed Naseer-ud-Din Naseer Gillani (Golra Sharif) By: Khalid Roomi, Rawalpindi ترے ستم کے لئے جس کا انتخاب نہیں
وہ امتحان محبت میں کامیاب نہیں
نگاہ غور سے دیکھیں تو میکدے والے
ہمارا جام ہے گردش میں، آفتاب نہیں
وہ سب کی سنتے ہیں ، سب کو جواب دیتے ہیں
مرے سوال کا لیکن کوئی جواب نہیں
خدا گواہ کہ اہل نظر کے مسلک میں
شراب حسن سے بہتر کوئی شراب نہیں
اب اس مقام پہ لے آئی ہے تری الفت
وہ الجھنیں ، وہ اذیت ، وہ اضطراب نہیں
نگاہ جم گئی اس چہرہ کتابی پر
اب اس کتاب سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں
کب ان کی یاد میں بے تابیاں نہیں دل کو
کب ان کے ہجر میں مٹی مری خراب نہیں
نصیر ! میکدہ زندگی میں لطف ہی کیا
شریک جام ، جو وہ رشک ماہتاب نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






