بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق
Poet: ابو الحسنات حقی By: مصدق رفیق, Karachiبے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق
بے زروں کو لعل و زر دیتا ہے عشق
کم نہاد و بے ثبات انسان میں
جانے کیا کیا جمع کر دیتا ہے عشق
کون جانے اس کی الٹی منطقیں
ٹوٹے ہاتھوں میں سپر دیتا ہے عشق
پہلے کر دیتا ہے سب عالم سیاہ
اور پھر اپنی خبر دیتا ہے عشق
جان دینا کھیلتے ہنستے ہوئے
قتل ہونے کا ہنر دیتا ہے عشق
کٹ گریں اور پھر بھی قائم ہیں صفیں
کتنے بازو کتنے سر دیتا ہے عشق
سر برہنہ ہیں انا گنبد جو تھے
آندھیوں سے سو کو بھر دیتا ہے عشق
درد مندی پر جو قائم ہوں انہیں
نور افزا چشم تر دیتا ہے عشق
ایک بوجھل رات کٹ جانے کے بعد
ایک لمحے کو سحر دیتا ہے عشق
یہ سمجھ تم کو بھی ہوگی صاحبو
دل کو کیوں شعلوں میں دھر دیتا ہے عشق
چل نکلنے کا ارادہ باندھئے
دیکھیے سمت سفر دیتا ہے عشق
قدر ہے جس کی خیام حور میں
آبرو کا وہ گہر دیتا ہے عشق
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






