بھرم ضبط کا توڑ جاتے ہیں آنسو
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: زروا بتول, Bangkokبھرم ضبط کا توڑ جاتے ہیں آنسو
یونہی بیٹھے بیٹھے جو آتے ہیں آنسو
لبوں پہ مرے چپ کے تالے پڑے ہیں
مگر داستانیں سناتے ہیں آنسو
صدا ہجکیوں کی اگر دب بھی جاۓ
تو کہرام سا اک مچاتے ہیں آنسو
جو سوجن سے آنکھیں ہی کھلتی نہیں ہیں
کہاں سے سفر کر کے آتے ہیں آنسو
جو خونِ محبت ہوا برسوں پہلے
اسی کا تو ماتم مناتے ہیں آنسو
چمن چاہتوں کا مہکتا ہے اب بھی
کہ ہم روز اس کو پلاتے ہیں آنسو
فلک کانپ اٹھتا ہے سن لے اے ظالم
کہ معصوم جس دم بہاتے ہیں آنسو
یہ مٹی بناتی ہے بت ان کے دیپک
کہ ہم بس زمیں پہ گراتے ہیں آنسو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






