بکھرے ہیں میری آنکھ سے اشکوں کے ستارے
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreبکھرے ہیں میری آنکھ سے اشکوں کے ستارے
اے کاش کوئی اپنا بھی اب چاند۔۔۔۔۔ اُتارے
جذبات کی موجیں میرے قابو میں۔۔ نہیں ہیں
شاید یہ تلاطم کسی طوفاں کو۔۔۔۔۔۔ اُبھارے
کیا خُوب ہے یہ عشق کہ صحرا میں ہے۔ مجنوں
اب کون ہے جو لیلٰی کی زلفوں کو۔۔۔ سنوارے
اُبھرے گا اِسی کفر کی ظلمت میں سے۔۔ سورج
وہ غارِ حِرا دور سے کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اشارے
تزئینِ چمن خون کے چھینٹوں ہی سے ۔۔۔ہو گی
نکھرے گا گلستاں مگر خوں سے۔۔۔۔۔ ہمارے
خود بڑھ کے سرِ دارکو چومیں گے۔۔۔۔ عزیزو
دنیا سے نرالے ہیں یہ انداز۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے
گرتے ہیں رہِ حق میں شہیدوں کے جو قطرے
یہ خون کے قطرے ہیں کہ طوفان کے دھارے
اب حامی و ناصرہے فقط۔۔۔۔۔۔۔۔ تُو ہی ہمارا
نکلے ہیں خُدایا تیری رحمت کے۔۔۔۔ سہارے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






