بس اتنا کہوں گی
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAتم میرے ہو، میرے رہنا بس اتنا کہوں گی
میرے سرتاج ہو تم، بس اتنا ہی کہوں گی
کہیں بھی جاؤ میرے دل سے دور نہ جانا
لوٹ کے پھر آجانا، بس اتنا ہی کہوں گی
یہ دل صرف تمھاری امانت ہے اور میں بھی
تم میری ہی امانت ہو، بس اتنا ہی کہوں گی
دل کی ہر دھڑکن میں تم ہی رچے بسے ہو
ہر دھڑکن تیری ہے، بس اتنا ہی کہوں گی
اپنے پیار میں تم نے مجھے رنگ دیا اتنا
تیرے رنگ میں رنگ گئی، بس اتنا کہوں گی
دنیا سے بے خبر ہوگئی میں تیرے پیار میں
اب جل تھل بھی کر دو، بس اتنا ہی کہوں گی
تیرا پیار ہی میری زندگی ہے میرا سہارا بھی
تم میرا سرمایہ حیات ہو، بس اتنا ہی کہوں گی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







