بر سرِ بزم حریفوں نے اشارہ دیکھا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلابر سرِ بزم حریفوں نے اشارہ دیکھا
اس کی آنکھوں نے کہاں درد ہمارا دیکھا
یہ بھی سچ ہے کی زمانے کو بھلا کر ہم نے
ہر گھڑی راحتِ جاں رستہ تمہارا دیکھا
وہ کہیں دور فلک پر تھا بہت افسردہ
آسماں پر جو مقدر کا ستارا دیکھا
اپنے معیار کے قابل تھے کہاں لوگ مگر
ایک بس تیرے لیے ان کو گوارا دیکھا
ہم بھی تیار تھے چلنے کو کسی اور نگر
پیچھے مڑکر بھی کہاں اس نے دوبارہ دیکھا
تیری فرقت میں کبھی چین نہ آیا وشمہ
اِس جوانی میں فقط ہم نے گزرا دیکھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






