بتوں کو ہم خُدا کہتے رہے ہیں
Poet: AzharM By: AzharM, Dohaبتوں کو ہم خُدا کہتے رہے ہیں
خُدا جانے یہ کیا کہتے رہے ہیں
ملمع تھا، اُترنے پر ہی جانا
جفا کو بھی وفا کہتے رہے ہیں
وہی آخر ہمارے کام آیا
جسے اکثر بُرا کہتے رہے ہیں
اُنہیں کیا تھی خبر، ہم ایک ہی تھے
تُمہیں مجھ سے جُدا کہتے رہے ہیں
ہمیں کیسے نہ مل پائے گی بخشش
نہیں اُس کے سوا کہتے رہے ہیں
اُسے بس اک ٹھکانے پر نہ ڈھونڈو
ہے ہر سو جا بجا کہتے رہے ہیں
کسی قابل نہیں، ہے دین اُس کی
کہ اظہرؔ بھی سنا کہتے رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






