اے جان تجھے لوٹ کے آنا تو پڑے گا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillپلکوں میں چھپا اشک گرانا تو پڑے گا
اب آئینوں کا قرض چکانا تو پڑے گا
کشتی کو کیسے دیجئے ساحل کا دلاسہ
لہروں سے کیا قول نبھانا تو پڑے گا
جس بات نے دنیا میری ویران سی کر دی
اس بات کو ہنسی میں اڑانا تو پڑے گا
قسمت میں خواہ ہزار غموں کے پہاڑ ہوں
مسکان کو چہرے پہ سجانا تو پڑے گا
کل رات سمندر میں سنا آگ لگی تھی
ساحل پہ بنا نقش مٹانا تو پڑے گا
یہ بھی تواسی دست مسیحا کی دین ہے
اس درد کو سینے سے لگانا تو پڑے گا
کب حسن کے قیدی کی نکالے گا کوئی سانس
اس شوخ کو پہلو میں بٹھانا تو پڑے گا
جب ہر حسیں خیال کی تعبیر ہی تم ہو
مٹھی میں چھپا خواب دکھانا تو پڑے گا
کب تک انا کی بھینٹ چڑھاؤ گے آرزو
اےجان تجھے لوٹ کے آنا تو پڑے گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






