اکثر ایسا کیوں ہوتا ہے بے سوچے ماضی یاد آجاتا ہے
Poet: Aik banda By: aik banda, londonاکثر ایسا کیوں ہوتا ہے
بے سوچے ماضی یاد آجاتا ہے
وہ گزرے ہوے لمحے
وہ ان گنت باتیں
وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانا
بار بار ملاقات کا منتظر رہنا
وہ آنکھوں کا بولنا
اور لبوں کا خاموش رھنا
بظاھر خاموش رہنا اور
سب کچھ بھی سمجانا
وہ بیٹھ کر دوسروں کے مسئلوں کحل کرنا
وہ بلا وجہ کا رو ٹھنا
اور جلد مان بھی جانا
تمہیں تو معلوم ہے جاناں
میں تمہاری آنکھوں میں آنسو
دیکھ نہیں سکتا
میں وہ شہر ملک چھوڑ آیا
ساتھ اپنا آپ بھی وہاں ہی چھوڑ آیا
اکثر ایسا کیوں ہوتا ہے
بے سوچے ماضی یاد آجاتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






