اپنے بیگانے کی پہچان بھلا دیتی ہے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Ali wahاپنے بیگانے کی پہچان بھلا دیتی ہے
حرص انسان کو حیوان بنا دیتی ہے
آہ جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
بعد مدت کے بھی بچھڑوں کو ملا دیتی ہے
ایک دن موت نے آنا ہے نہیں ٹل سکتی
لوگ کہتے ہیں یہی زیست دغا دیتی ہے
میرے حالات برے دیکھ کے منہ موڑ لیا
خط پرانے وہ سبھی میرے لٹا دیتی ہے
چاہے جتنا بھی کروں ظلم و ستم اس پر میں
تم سدا خوش رہو جینے کی دعا دیتی ہے
اس لیے چین سے شہزاد نہیں سو پاتا
خواب غفلت سے مجھے نیند جگا دیتی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






