اپنے آپ پہ چادر اوڑھ کے چاندنی رات بناؤں گا
Poet: عبیداللہ عبدی By: عبیداللہ عبدی, Lahoreاپنے آپ پہ چادر اوڑھ کے چاندنی رات بناؤں گا
اور محبوب سے صبح تلک باتوں میں وقت بتاؤں گا
تاکہ عدم موجودگی میں تجھ کو سُونا پن گھیر نہ لے
میں دفتر جانے سے پہلے ماتھا چوم کے جاؤں گا
شاید قدرت کی وہ رضا سمجھے اور اپنا لے مجھ کو
قصداً اپنی گھڑی میں اس کا دوپٹہ اٹکاؤں گا
نفسا نفسی کے عالم میں محبت کی افزائش کو
رب طاقت دے تو تجھ جیسے ہر بستی میں بناؤں گا
اس کے جسمِ اطہر کی شیرینی جاننے کو عبدی
میں سب سے پہلے نظریں، پھر دل، پھر ہونٹ ملاؤں گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






