اٹھ گئے ہیں سارے پردے اب نہاں کچھ بھی نہیں
Poet: دانیال حیدر جعفری By: دانیال حیدر جعفری, Islamabadاٹھ گئے ہیں سارے پردے اب نہاں کچھ بھی نہیں
یہ زمیں یہ چاند تارے آسماں کچھ بھی نہیں
وقت نے بدلی جو کروٹ سب بدل کر رکھ دیا
اب وہ پہلے سا ہمارے درمیاں کچھ بھی نہیں
خلوتوں کی قید میں ہیں ہم ہجوم شہر میں
بن تیرے لگتا ہے جیسے اب یہاں کچھ بھی نہیں
کوچہِ یاراں کی عظمت کیا بتاؤں میں تمہیں
سامنے اس کے تو جنت کے مکاں کچھ بھی نہیں
ان کا سنگ در ہے سجدہ گاہ زمانے کے لیئے
اس کے آگے اولیا کے آستاں کچھ بھی نہیں
جلوہ گاہ ناز کے پردے ہٹے تو دیکھیو
اب تلک اے ناصحا تجھ پر عیاں کچھ بھی نہیں
عمر ساری ہم نے رستے ڈھونڈنے میں صرف کی
جب ملی منزل تو دیکھا کہ وہاں کچھ بھی نہیں
نے ہی گرد راہ ہے نے قافلوں کے ہیں نشاں
وہ جرس کا شور اور وہ کارواں، کچھ بھی نہیں
دیکھ حیدر آگے آگے عشق میں ہوتا ہے کیا
اب تلک جو بھی ہوا ہے یہ زیاں کچھ بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






