اُمید تھی تو، اگرچہ نہ تھی عیاں بالکل
Poet: شفیق خلش By: Saeed Afghani, Washington DCاُمید تھی تو، اگرچہ نہ تھی عیاں بالکل
ہُوئی کِرن وہی دِل کی ہے اب نہاں بالکل
کِھلے نہ پُھول ہیں دِل میں، نظردُھواں بالکل
بہار آئی بھی بن کر خَلِش، خِزاں بالکل
کہا ہے دِل کی تسلّی کو بارہا خود سے
ہم اُن کو بُھول چُکے ہیں، مگرکہاں بالکل
جو اُٹھتے دستِ زلیخا ہمارے دامن پر
نہ ہوتی یوسفِ کنعاں سی داستاں بالکل
جَھلک نہ دُور سے کوئی، نہ روشنی کا سُراغ
سِرا سُرنگ کا، آنکھوں سے ہے نہاں بالکل
ذرا سی ہجر میں احساس ہو چلا مجھ کو
مِری حیات یہ، اُس بِن ہے رائیگاں بالکل
نہ اب وہ زخم پہ مرہم، نہ گھر تو آؤ، خلش
بدل چُکا ہے محبّت کا سب سماں بالکل
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






