انتظار
Poet: Ammara By: Ammara, Gujranwalaنہ درد ہو نہ دوا کرے
تیرے بن کیسے جیا کرے
مریض عشق کو شفا ملے
تیرا دیدار جو ہر پل ہوا کرے
کبھی عشق ہو تمہیں بھی
تمہارا دل بھی بے چین رہا کرے
تو ڈھونڈیں اسے نگر نگر
ہر پل اسے تو سوچا کریں
ہستے ہو جو خدوحال پہ
تیرا بھی روپ جوگن ہوا کرے
پوچھتے ہو حال، حال جدائی میں
کاش وصل کی تو کوئی بات کرے
ہر راہ پہ چراغا اسکے نام کا
اب شمع سے پروانے نہ ڈرا کرے
کبھی تو گزروں گے ان راہوں سے
کوئی چوکھٹ پر بیٹھے کب تک صدا کرے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






