اسے تو اپنے ہی مصروف کام پر رکھا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiاسے تو اپنے ہی مصروف کام پر رکھا
بھروسہ میں نے مکمل غلام پر رکھا
سنا چکے ہیں سبھی اپنی شاعری لیکن
عدو مرے نے مرا نام اختتام پر رکھا
مرے تو درد کی حدت مزید بڑھ گئی ہے
یہ ہاتھ اپنا میں نے جب مسام پر رکھا
دکھانا یار کو تھا اس لیے گیا ہوں مے خانے
نہیں میں پیتا مگر خود کو جام پر رکھا
کوئی بھی کام نہیں آتا ڈھنگ سے تھا مجھے
غزل سے ذوق تھا کتیہ کلام پر رکھا
کبھی بھی سوچا نہیں ہے میں نے برا ان کا
تھا رشتہ ایسا اسے ا حترام پر رکھا
تھا ہر طرف ہی اندھیرا یہ روشنی کہاں تھی
چراغ صبح کو دیوار شام پر رکھا
تری نگاہ کو آنکھیں مری تو ترس گئیں
خوشی یہی ہے مجھے التزام پر رکھا
مری بساط سے بڑھ کر عطا کیا ہے رزق
خدا نے مجھ کو تو اعلی مقام پر رکھا
امیر لوگ تجارے عجیب کرتے ہیں
جفا کی آڑ میں کارِ دوام پر رکھا
ملاپ اپنا کبھی ہونا ہی نہیں شہزاد
یہ رابطہ تھا ہی اتنا کہ دام پر رکھا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






