اس کے چہرے پہ تبسم کی ضیا آئے گی
Poet: آنند سروپ انجم By: مصدق رفیق, Karachiاس کے چہرے پہ تبسم کی ضیا آئے گی
وہ مجھے یاد کرے گا تو حیا آئے گی
اوڑھ کر جسم پہ یادوں کی ردا آئے گی
جب بھی ماضی کے جھروکوں سے ہوا آئے گی
کون مظلوم کی فریاد سنے گا نا حق
لوٹ کر دشت میں خود اپنی صدا آئے گی
کس قدر بکھرا ہوا ہوں میں بچھڑ کے تجھ سے
یاد اب کس کی مجھے تیرے سوا آئے گی
بند کمروں میں کسی کو بھی یہ احساس نہ تھا
در کھلیں گے تو بہت تیز ہوا آئے گی
غیر مانوس فضاؤں میں تو خوش ہوں لیکن
جانے کس موڑ پہ مانوس فضا آئے گی
نام تو اپنا گنہ گاروں کی فہرست میں لکھ
تیرے حصے میں بھی رنگین قبا آئے گی
زندگی سب سے جدا گزرے گی اپنی انجمؔ
موت بھی آئی تو وہ سب سے جدا آئے گی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






