اداس اداس لمحے تھے
Poet: Maria riaz By: Maria Ghouri, Haroona abadاداس اداس لمحے تھے
اداس اداس رہا کرتے تھے
اداسیوں سے اسقرر محبت تھی
خوشیوں کی نہ ہمیں چاہت تھی
جب سے تجھ سے ملنے لگے
جیسے خود سے ملاقاتیں کرنے لگے
تیری محبت کی اسقدر شدت دیکھ کر
ہم بھی اپنی حدوں سے بہکنے لگے
ہمیں نہ خبر رہی دن کہاں
رات کہاں
تیری باتوں میں دنیا کو ڈھونڈنے
شباب پوری طرح کہاں آیا ہم پر
محبت کی آگ ابھی سے بھڑکانے لگے
تیرے بن کچھ حالات نیں ہمارے
کیا کریں تیرے سوا کوئی جذبات نہیں ہمارے
سمجھو تو میری جان تجھ میں جنت دکھائی دیتی ھے
اب تک کہاں جی رہے تھے
زندگی اندھیروں میں بتائے لگتی ہے
تیری باتوں کے سفر میں اک سکوں سا ملتا ہے
ہمیں بس یہی محبت کا جنوں سا ملتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






