اب اپنے دل پے کہاں اختیار رہتا ہے
Poet: پلک محروم By: PALAK-MAHROOM, India, Bihar, Gopalganjاب اپنے دل پے کہاں اختیار رہتا ہے
میری آنکھوں کو تیرا انتظار رہتا ہے
آؤگے مڑکے کبھی پھرسے میری راہوں میں
میرے دل کو یہ اعتبار رہتا ہے
کیسے جی پائیں گے بچھڑ کے ہم تم سے
بس یہی سوچ کے دل بے قرار رہتا ہے
کچھ بھی یاد نہیں سوائے تیرے مجھے
میری یادوں کو بس تیرا بچار رہتا ہے
تیری تلاش میں ہی اٹھتی ہیں، اپنی نظر
یہ دل تمھارا ہے، تم پے نثار رہتا ہے
بھول کے بھی نہ بھولا پائیں ہیں یادیں انہیں
ہر گھڑی آنکھوں میں بس چہرائے نگار رہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






