آنکھیں
Poet: نائلہ رانی By: لیلیٰ احد, Karachiدیدار یار کو ترستی رہی میری آنکھیں
آ جاؤ کہ شام پہر تھمتی نہیں میری آنکھیں
میرے لب پر ہے جاری بس تیرے نام کی تسبیح
میرے قلب پر ہے طاری بس میرے یار کی باتیں
سو چوں تو میرے تصور میںرہتی ہے تیری صورت
بو لوں تو میرے لہجے میں برستی ہیں تیری باتیں
اے نادان صنم تیرا انداز بیاں اور تیری یادیں
کیسے بھو لوں کہ غم یار میں سسکتی رہی میری شامیں
حا لات کی دیوار گرا کر بھی چلتی رہیں میری سانسیں
پیشا نی حیات پردکھ سجا کر تڑپتی رہیں میری آہیں
دیدار یار کو ترستی رہیں میری آنکھیں
آ بھی جاؤ کہ شام پہر تھمتی نہیں میری آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






