آنکھوں دیکھ کر پیا ہے زہر عمر بھر
Poet: Majassaf imran By: Majassaf imran, Gujratآنکھوں دیکھ کر پیا ہے زہر عمر بھر
رقیبوں نے سمجھایا پھر بتلایا بھی
رنگ با انواع سے بد است وہ لڑکی
ہر اک آشنا اسکا من دیده ام بھی
کیوں قاثر ہے شناخت سے میرا قلب
تمام شب غیر کی بانہوں اسے دیکھا بھی
رابط دل ہے کہ ابھی تک قائم تجھ سے
زبان هر فرد سے تیرا کردار سنا بھی
مہنگے ملابس میں کب تک چھپاو گے باطن
ایسے ہونے سے أفضل ہے تیرا نہ ہونا بھی
تیری خصلت میں تغییر جھوٹی ہے بات
بے فائدہ ہے هر لحظه تم پہ مرنا بھی
بدون زمان ایسا کہ تجھے یاد نہ کیا ہو
بدن چور زخموں سے جینا ہے اجباری بھی
کب تک رکھوں گا سلجھا کر تیری تصویریں
لازم ہے اک روز دنیا سے میرا بچھڑ بھی
خاک ڈالو گے ہوا دنیا سے من بلند شدم
جانیں گی تیرا حال سیلیاں چطوری بھی
کبھی مسکراو گے کبھی خوب رویا گے تم
گاہ بگاہ لیا کرو گے نفیس میرا نام بھی !!
آنکھوں دیکھ کر پیا ہے زہر عمر بھر
رقیبوں نے سمجھایا پھر بتلایا بھی
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






