آنچ
Poet: Hukhan By: Hukhan, karachiآؤ دھیمی سی آنچ پر جل کر دیکھتے ہیں
ہو کر فنا جی کر دیکھتے ہیں
آؤ اس پر مر کر دیکھتے ہیں
بڑی بڑی ہیں آنکھیں
ان میں ڈوب کےدیکھتے ہیں
کم سن سی عمر اس پر بھرم
خود کو جھکا کر دیکھتے ہیں
لبوں پر ان کے غضب کی مسکان
یہ ستمِ جان سہہ کر دیکھتے ہیں
دسمبر بھی ہوا جلا جلا سا
آتشِ حسن کو اپنا کر دیکھتے ہیں
کرتے ہیں حسنِ خیراں کو ذرابرہم
ان کے گال گلاب کرکے دیکھتے ہیں
سراپاِ قیامت ہوشربا
آج ہمتِ مرداں کرکے دیکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






