آس کے پر کیف موسم کا اثر کیسا لگا
Poet: عباس By: عباس, Abbottabadآس کے پر کیف موسم کا اثر کیسا لگا
اس بہار نو شگفتہ کا ثمر کیسا لگا
میں نہ کہتی تھی اداسی کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ نے دیکھا مرا ویران گھر کیسا لگا
میں نے اک بت کو تراشا ہے زمانے کے لئے
اے ہنر مندو مرا کار ہنر کیسا لگا
ظلمتوں کے ساتھ تو تم نے نبھایا عمر بھر
شب گزیدہ لوگو انداز سحر کیسا لگا
کیسا منظر ہے کہ ہے گل پوش دنیا کا دروغ
زندگی کا سچ مقام دار پر کیسا لگا
یہ بتاؤ لوٹ کر آ ہی گئے ہو تم اگر
زیست کے بے نام شہروں کا سفر کیسا لگا
میں نے دروازہ تری خاطر کیا تھا وا بہارؔ
تو بتا دے تجھ کو الفت کا نگر کیسا لگا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






