آباد تھے ہم بھی کبھی آلام سے پہلے
Poet: دانیال حیدر جعفری By: دانیال حیدر جعفری, Islamabadآباد تھے ہم بھی کبھی آلام سے پہلے
یعنی کہ محبت تیرے انجام سے پہلے
اب ہجر میں لپٹی ہوئی اک شامِ الم ہے
کیا شام ہوا کرتی تھی اس شام سے پہلے
ٹہرو نہ ابھی مارنا پتھر مجھے لوگو
سولی پہ چڑھا لو مجھے آرام سے پہلے
دل میرا جلانے کے لیئے اہلِ زمانہ
لیتے ہیں تیرا نام میرے نام سے پہلے
ساقی مجھے عادت نہیں اس جام سبو کی
آنکھوں سے پلا دے نا مجھے جام سے ہہلے
بدنام ہوئے جاہتے اس عشق کے صدقے
پھر تھے وگرنہ یونہی گمنام سے پہلے
حیدر میری غزلوں کے سبب ہونا ہے برپا
ہنگام سا اک حشر کے ہنگام سے پہلے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






