آ کہ دل آج رکھ لے نظاروں کا بھی
Poet: hussain nisar By: hussain nisar, karachiآ کہ دل آج رکھ لے نظاروں کا بھی
نہ گذر جائے موسم بہاروں کا بھی
جب پڑے کچھ کڑا وقت تو اے جاں مری
حوصلہ دیکھنا غم کے ماروں کا بھی
قافلے چل پڑے دھول اڑنے لگی
کچھ نشاں نہ ملا ریگ زاروں کا بھی
ظلم کی تیرگی پھیلتی ہی گئی
زرو کچھ نہ چلا چاند تاروں کا بھی
شب گذ یدہ سحر ایک ساعت بھی رک
دل بھرا نہ ابھی غم کے ماروں کا بھی
مشتہر کر نہ دیں کو چہ ء یار میں�
اب بھروسہ نہیں راز داروں کا بھی
مقتلِ شب میں تنہا گیا میں نثار
کچھ پتہ نہ چلا جاں نثاروں کا بھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






