Tou Kya Tumhein Mein Kbhi Yaad He Nhi Aya=>(Dua)
Poet: Alone Poet By: Rao Awais Sagheer, KabirwalaTo Kiya Tumhain Main Kabhi Yaad Hi Nahi Aaya "Dua"?
Kisi Gulaab Ki Khushboo Kay BikharnayVPar Bhi Nhi?
Kitaab Uthatay Huay Bhi Nhi? Geet Koi Gaatay Huay Bhi Nhi?
Ittar Lagatay Huay Bhi Nhi? Chooriyan Pehentay Huay Bhi Nhi?
To Kiya Tumhain Main Kabhi Yaad Hi Nahi Aaya "Dua"?
Subha Ko Uthtay Huay Bhi Nhi? Shaam Ko Teheltay Huay Bhi Nhi?
Neend Naa Aaye Agar Karwatain Badaltay Huay Bhi Nhi?
Kabhi Yoonhi Kisi Dhun Ko Suntay Huay Bhi Nhi?
To Kiya Tumhain Main Kabhi Yaad Hi Nahi Aaya "Dua"?
Kisi Kay Rooth Kay Jaanay Pay Chirchiray Hokar Bhi Nhi?
Kisi Saheli Say Bus Yoonhi Baat Kartay Huay Bhi Nhi?
Kisi Khayal Main Bethay Achanak Se Uth Ke Chaltay Huay Bhi Nhi?
Kisi Bhi Raat Ko Uth Kar Yoonhi Tehltay Huay Bhi Nhi?
To Kiya Tumhain Main Kabhi Yaad Hi Nahi Aaya "Dua"?
Akelay Yoonhi Kabhi Apni Dhun Main Chlatay Huay Bhi Nhi?
Kisi Ki Saalgira Par Yoonhi Beheltay Huay Bhi Nhi?
Kisi Onchayi Pe Tanha Sambhal Ke Chartay Huay Bhi Nhi?
To Kiya Tumhain Main Kabhi Yaad Hi Nahi Aaya "Dua"?
Kisi Gulaab Ko Tehni Se Torr Kar Bhi Nahi?
Kisi Darakht Ke Saaye Main Baith Kar Bhi Nahi?
Apnay Darwazay Pe Dastak Koyi Sunkar Bhi Nahi?
Apni Kitab Main Koi Naam Dekh Kar Bhi Nahi?
Kisi Bhi Shakhs Ko Khamosh Dekh Kar Bhi Nahi?
Kisi Bhi Aankh Ko Num Dekh Kar Bhi Nahi?
Kahin Lafzon Main Koi A=>(Awais) Dekh Kar Bhi Nahi?
To Kiya Tumhain Main Kabhi Yaad Hi Nahi Aaya "Dua"????
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






