Shikwey Gile Huzoor
Poet: Shamsul "ShamS" By: Shamsul Hasan, New DelhiShikwey Gile Huzoor Mitakar To Dekhiye
Ban Jaayegi phir Baat Banakar To Dekhiye
Tumko Sukoon Gar Na Aa Jaye To Kehna
Seene Se Ek Baar Lagakar To Dekhiye
Hum Wo Nahi Jo Dard-e-Dil Tumhaara Na Kar Sakein
Guzri Hai Tum pe Kya Humko Batakar To Dekhiye
Hoti Hai Kis Had Tak Khushiyon Ki Sarhadein
Jaanoge Kisi Bache Ko Hasakar To Dekhiye
Tum Ye Na Sochna Ke Tumhara Nahi Koi
Mil Jaayenge Sab Haath Badhakar To Dekhiye
Jaao Tumhe Jana Tha Shahr Mera Chodd Ke
Aayenge Hum Na Yaad Bhulakar To Dekhiye
Ye Khouf Andheron Ka Phir Na Satayega Aapko
Ghar Ke Sabhi Charaag Jalakar To Dekhiye
Kya "ShamS" Guzarti Hai Ye Hizr-e-Dafatan
Mere Kabhi Kareeb Tum Aakar To Dekhiye.
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






