POORANE KHAT
Poet: Imran Ahmed Nami By: IMRAN AHMED NAMI, Karachiدلِ حزیں پہ وہ چپ سی نمی اب تک ہے
کبھی جو درد تھا، وہ نرمی اب تک ہے
نہ اُس کو وقت ملا، نہ ہمیں ہنرِ اظہار
سو ایک خواب کی صورت وہ بے خودی اب تک ہے
مرے سکوت میں چھُپا ہے وہ ایک حرفِ طلب
جو اُس کے نام سے لب پر تھمی ہوئی اب تک ہے
زمانہ بُھول گیا داغِ دل کا افسانہ
مگر وہ زخم، وہی خاموشی اب تک ہے
وہی خیال، وہی چاندنی سی ساعتِ ہجر
مرے خیال کے اندر بسی ہوئی اب تک ہے
یہ دل فریب تمنّا میں جلتا رہتا ہے
کہ جیسے آگ میں خوشبو دبی ہوئی اب تک ہے
"نامیؔ" گزر گئے موسم، مگر یہ دل کہتا
وہ ایک عشق کی پہلی کمی اب تک ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






