Phone Peh Jab
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMPhone Peh Jab Uhs Se Baat Ho Jaati Hai
Wo Zeest Ki Yadgar Saahat Ho Jaati Hai
Maal O Zar Ka Jin Ko Sahara Nahein Hota
Unn Ki Be Tou Guzar Awqaat Ho Jaati Hai
Kehi Bar Tou Insan Aik Khushi Ko Tarsta Hai
Kabi Kabi Musarton Ki Bautaat Ho Jaati Hai
Insan Kitne Armaan Leh Kar Aate Hein
Magar Zindgi Nazar E Haalat Ho Jaati Hai
Mein Uhs Keh Khyalon Mein Khoya Rehta Hoon
Pata Nahein Chalta Khatam Raat Ho Jaati Hai
Uhs Ki Yaad Aate He Na Jaane Kyon
Ankhon Seh Aansoon Ki Barsat Ho Jaati Hai
Haqeeqat Mein Tou Uhs Seh Milna Mohal Hai
Lekin Khwabon Mein Mulaqaat Ho Jaati Hai
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






