Mohabbat Chodd De
Poet: Shamsul "ShamS" By: Shamsul Hasan, New DelhiAe Yaar Maan Meri Baat
Mohabbat Chodd De
Dardon Mai Kategi Raat
Mohabbat Chodd De
Tanhaai Mai Bethkar Roya Karega
Saari Saari Raat Na Soya Karega
Sudhrenge Na Tere Halaat
Mohabbat Chodd De
Dardon Mai Kategi Raat
Mohabbat Chodd De
Aanhkon Se Aansoo Ki Jagha Tapkega Lahoo
Phirr Marne Ki Bhi Dua Maangega Tu
Aayega Kuch Na Haath
Mohabbat Chodd De
Dardon Mai Kategi Raat
Mohabbat Chodd De
Anchaahe Zakhmon Ko Tu Shlaayega
Maan Meri Warna Pagal Ho Jaayega
Seene Mai Hi Rakh Jazbaat
Mohabbat Chodd De
Dardon Mai Kategi Raat
Mohabbat Chodd De
Dar Dar Khaaq Mai Dhundega Khud Hi Khud Ko
Kya Se Kya Kar Daalegi Chahat Tujhko
Bebaat Badhegi Baat
Mohabbat Chodd De
Dardon Mai Kategi Raat
Mohabbat Chodd De
Sach Kehta Hoon Jeete Jee Mar Jaayega
Koi Bhi Na Phir Tera Saath Nibhaayega
Bas Hogi Andheri Raat
Mohabbat Chodd De
Dardon Mai Kategi Raat
Mohabbat Chodd De
Hosh Mai Aa Deewaane Jaan Se Jaayega
Jo Bachi Kuchi Hai Uss Pehchaan Se Jaayega
Tu Ho Jaayega Khaaq
Mohabbat Chodd De
Dardon Mai Kategi Raat
Mohabbat Chodd De
Dekh Mujhe Maine Bhi Mohabbat Ki Thi
Phir Tujhko Khabar Ho Jaayegi Barbaadi Ki
Nilaam Hui Meri Auqaat
Mohabbat Chodd De
Dardon Mai Kategi Raat
Mohabbat Chodd De
Ae Yaar Maan Meri Baat
Mohabbat Chodd De
Dardon Mai Kategi Raat
Mohabbat Chodd De
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے







