Kuch Aur Tou Nahi
Poet: Anjan Bilal By: Anjan Bilal, Srinagar, J&KDil Mein Chupa Ek Armaan Hai, Kuch Aur Tou Nahi
Subh-o-Sham Tera Dhyaan Hai, Kuch Aur Tou Nahi
Hote Ho Ru-Ba-Ru, Jab Bhi Uthe Dua Ko Haath
Tum Ho Tou ,Rooh Mein Jaan Hai, Kuch Aur Tou Nahi
Gulshanoun Se Ragbat Youn Hi Nahi Hai Mujhko
Tere Naam Se Hi Mera Maan Hai, Kuch Aur Tou Nahi
Darta Houn, Jab Bhi Aata Hai Dil Mein Khayal-e-Yaas
Fakat Teri Yaad, Khushi Ka Samaan Hai, Kuch Aur Nahi
Tujhko Basya Hai Jab Se Rooh-ho-Jism Mein, Mein Ne
Ass Jeene Ki, Tab Se Rawaan Hai, Kuch Aur Tou Nahi
Sab Pe Tou Khul Gaye, Raaz Mohabbat-o-Ulfat Ke
Is Jahan Mein, Fakat Hum Anjan Hai, Kuch Aur Tou Nahi
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






