Khwaabo May Aaoun Na Tum
Poet: zaman farooqi By: zaman farooqi, karachiKhwaabo May Aao Na Tum
Dil Ko Meray Churaao Na Tum
Aajaoun Meri Neendo Ka Sawal Hay
Meri Neendo Ko Bahaar Kar Jaaoun Na Tum
May Aaoun Gi Neendo May Teray Khwab May
Teray Sang Jeo Gi Teray Sang Mar Jaaoun Gi
Meri Neendo May Aanay Ka Shukria
Meri Saanso Ko Bharnay Ka Shukria
Meri Khwaabo Ko Sajanay Ka Shukria
Khwaabo May Lout Aanay Ka Shukria
Mujhay Khwaabo May Jaganay Ka Shukria
Meray Galay Lag Jaanay Ka Shukria
Meri Neendo Ki Nagri May Bahaar Aagai
Teri Muskurahat Say Nagri May Barsat Aagai
Ab Jaagnay Ki Muj Ko Koi Aas Nahi
Jagtain Mera Apna Koi Paas Nahi
Khwaabo May Aaoun Na Tum
Dil Ko Meray Churaao Na Tum
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






