Kahan Itni Saza’en Thi Bhala Is
Poet: Mohsin Naqvi By: وشمہ خان, ماسکوKahan Itni Saza’en Thi Bhala Is Zindgani Mein
Hazaron Ghar Huwe Roshan Jab Mera Dil Jala MOHSIN
Faqat Ik Lafz “MOHABBAT” Ki Hum Ne Bheek Mangi Thi
Taras Gaye Khushi Ko Hum Mili Hai Ye Saza MOHSIN
Sukoon E Zindagi Chora Ik Teri Zaat Ki Khatir
Magar Phir Bhi Meri Chahat Se Tum Ko Hai Gila MOHSIN
Toota Huwa Ye Dil Le Kar Main Kis K Paas Jaonga
Hai Kaun Wo Karay Ga Jo Mere Dil Ki Dawa MOHSIN
Teri Ankhain Teri Sansain Tera Chehra Teri Dharkan
Main Kaise Bhool Paön Ga Teri Har Ik Adaa MOHSIN
Kisi Ko Kya Khabar Mujh Par Har Pal Kya Guzarti Hai
Meri Saari Kahani Ka Hai Tu Hi Aashna MOHSIN
Nahi Qaabil Tere Lekin Munasib Jo Agar Samjho
Yaad Rakhna Duaon Mein Yehi Hai Ilteja MOHSIN
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






